بنگلورو،30؍اکتوبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی طرف سے پچھلے چھ ماہ کے دوران 1756.42کروڑ روپیوں کا اثاثہ ٹیکس وصول کرکے ایک غیر معمولی ریکارڈ قائم کیا گیا۔ یہ بات آج برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی کے چیرمین ایم کے گنا شیکھر نے بتائی۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے چھ ماہ کے دوران مختلف بینکوں سے چالانوں کے ذریعہ 467.61کروڑ روپے اور بی بی ایم پی دفاتر میں 1281.85کروڑ روپے اثاثہ ٹیکس جمع کیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اثاثہ ٹیکس کی وصولی کے نشانہ کو 68 فیصد پارکرلیا گیا ہے۔ 1475407اثاثوں کیلئے ٹیکس کی وصولی کی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ صرف اکتوبر کے دوران اثاثہ ٹیکس کی ادائیگی کیلئے 1239447 اثاثوں سے رقم کی وصولی ہوئی ہے، جوکہ سابقہ تمام ریکارڈوں کو توڑ چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگلے ایک ہفتے کے دوران بی بی ایم پی کوتوقع ہے کہ مزید 51کروڑ روپیوں کی رقم اثاثہ ٹیکس کے طور پر جمع کی جائے گی۔ بی بی ایم پی نے اثاثہ ٹیکس کی وصولی کا اوسط کا جو جائزہ لیا ہے، اس کے مطابق شہر کے جنوبی حصہ سے زیادہ رقم وصول ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایاکہ اس علاقہ میں ٹیکس کے بقایا جات بھی سب سے زیادہ ہیں۔ ساؤتھ ڈویژن سے 36کروڑ روپئے، بمن ہلی ڈویژن سے 21؍ کروڑ روپئے ، مہادیو پورہ ڈویژن سے 96کروڑ روپئے بی بی ایم پی کو صرف گنی چنی عمارتوں سے ملنے باقی ہیں۔ اس سلسلے میں عمارتوں کے مالکان کو نوٹس جاری کیا گیا لیکن یہ لوگ عدالتوں سے رجوع ہوچکے ہیں۔ عدالتوں میں ان لوگوں کو اسٹے نہ ملنے پائے اس کیلئے بی بی ایم پی کی طرف سے کیویٹ دائر کیا جاچکا ہے۔ گنا شیکھر نے بتایاکہ بی بی ایم پی کی طرف سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ اپنی آمدنی کے ذرائع کو بڑھایا جائے اور اس کے ذریعہ شہر کی ترقی کو اور موثر بنایا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ برہت بنگلور مہانگر پالیکے کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کیلئے سابق چیف سکریٹری بی ایس پاٹل کی قیادت میں جو کمیٹی ریاستی حکومت نے تشکیل دی ہے وہ کمیٹی یہ طے کرے گی کہ تقسیم کے بعد شہر کے اثاثہ ٹیکس کی وصولی کا ڈھانچہ کس نوعیت کا ہوگا۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ جلد ہی کمیٹی کی طرف سے رپورٹ بی بی ایم پی کو پیش کی جائے گی۔